shah muhibbullah allahabadi Home Introduction Tasawwuf(Sufism) जीवनी हज़रत शाह मुहिबउल्लाह इलाहाबादी حیٰوۃ شیخ الکبیر حضرت شاہ محب اللہؒ الہ آبادی About Us Allahabad Gallery

Search Your Topic

شیخ ‏محب ‏اللہ ‏الہ آبادی بحیثیت ‏شیخ ‏الکبیر ‏

شیخ محب اللہ الہ آبادی بحیثیت شیخ الکبیر  

  جس طرح حضرت شیخ محی الدین ابن عربیؒ ، علم شریعت و ماہر حقیقت اور نظریہ وحدت الوجود کے ماننے والوں کے امام تھے، اسی طرح شیخ محب اللہ علوم ظاہری و باطنی کے  جامع اور ماہر آیات و احادیث اور اسرار شریعت و حقیقت کے امام تھے، جن  مضامین شیخ اکبر کی تصانیف ہیں انہی میں شیخ محب اللہ الہ آبادی کی بھی تصانیف موجود ہے مثلا فصوص الحکم کے طرز پر انہوں نے انفاس الخواص اور فتوحات کے طرز پر عبادت الخواص تصنیف فرمائی؛ان تصانیف میں شیخ محب اللہ الہ آبادی نے ارکان اسلام کے ظاہری و باطنی احکام و اسرار و دقائق جدید انداز سے بیان کئے ہیں، اسی طرح جس مضامین میں شیخ اکبر کی تصانیف پائی جاتی ہے انہی مضامین میں شیخ محب اللہ کی بھی تصانیف پائی  جاتی ہے؛بعض بعض جگہ آپ نے کسی تصوّف کے مسلے کو لکھنے کے بعد تحریر فرمایا ہے کے میں نے اس مضمون کو اس طرح لکھا لیکن جب فصوص الحکم و فتوحات میری نظر سے گزری تو ان مطالب کو باہم متحد پایا؛اس ظاہر ہے کے شیخ اکبر و شیخ کبیر کے ملہمات باہم متماثل ہیں، اکثر دلائل قران و احادیث سے استخراج فرماے ہیں انہی وجوہات سے آپ کا لقب شیخ کبیر ہوا ہے۔اپنی تصانیف کے سلسلے میں شیخ محب اللہ خود فرماتے ہیں کے ''اس قدر کثیر تصانیف جو علم تصوّف میں میں نے لکھی ہیں سب بغیر مطالعہ کسی کتاب کے میں نے تحریر کی ہیں یہ فیض میرے مرشد کا ہے
رسالہ تسویہ،  شاہ محب اللہ الہ آبادی کی اس کے علاوہ ایک تصنیف رسالہ تسویہ کے نام سے بھی ہے جس پر عہد عالمگیری میں بڑا ہنگامہ برپا ہوا تھا؛
 مولوی عبدالحق نے مأثر الکرام کے مقدمے میں تحریر فرمایا ہے کے رسالہ تسویہ میں علاوہ اور امور کے جبرئیل وحی کی حقیقت کا اظہار ان الفاظ میں کیا ہے


جبرئیل در ذات محمد بود صلّی اللہ علیہ و سلّم و ہمچنی جیبرئیل باہر پیغمبرے در ذات و لے بود وآں قوت باطنی الشیاں بود کہ در غلبہ آں قوّت وحی بر الشیاں نازل می گردید لہٰذا جیبرئیل باہر پیغمبر ے بزبان و لےسخن گفتہ


علمائےظاہر نے اس رسالے پر ہنگامہ برپا کرکے سلطان اورنگزیب عالمگیر کو خبر پہوچائی کہ اس رسالے میں شریعت کے خلاف باتیں کہیں گئیں ہیں چنانچہ اورنگزیب نے حکم دیا کے پورے ملک کے درویش اور مشائخ کو دربار میں حاضر کیا جائے اور سب سے اس رسالے کے بارے میں سوال کیا جائے چنانچہ علمائے شریعت کی طرح سلطان عالمگیر نے بھی اس رسالے پر شدید خفگی کا اظہار کیا اور صوفیاء و مشائخ کے محضر میں شیخ محب اللہ کے مریدوں سے کہا  یا تو اس رسالہ کے مندرجات کو احکام شریعت کے مطابق کر کے بتاؤ ورنہ شیخ کی بیعت سے توبہ کرو شاہ محمدی فیاضؒ نےجواب میں لکھا کہ بیعت الاسلام سے ارتداد ممکن نہیں اور شیخ نے جس مقام سے گفتگو کی میری ابھی وہاں رسائی نہیں اور اگر اس رسالہ کے جلا دینے کا مصمم ارادہ ہے تو جس قدر اس کی نقلیں ملیں جلادیں۔ شاہی باورچی خانہ میں فقراء متوکل کے یہاں سے زیادہ آگ ہے۔ عالمگیر خاموش  رہا۔ اس واقعہ سے بخوبی معلوم ہوتا ہے کے رسالہ تسویہ کس قدر مختلف فیہ رسالہ ہے راقم السطور کے علم میں رسالہ مذکورہ سے باوجود اختلاف کے ہندوستان میں اس کی درج ذیل شرحیں لکھی گئیں ۔
 شرح تسویہ: مصنفہ محمدی فیاض زمینی ہرگامی شاگرد شاہ محب اللہ الہ آبادیؒ۔ ۲۔شرح تسویہ: مصنفہ شیخ امان اللہ بنارسیؒ ۱۱۳۳ھ/۱۷۲۱ء۔ ۳۔ شرح تسویہ: مولفہ شیخ عبداللہ بن عبدالباقی نقشبندی دہلویؒ۔ ۴۔ شرح تسویہ: شیخ محمد افضل بن عبدالرحمٰن عباسی الہ آبادی ؒ (۱۲۲۴ھ/ ۱۷۱۲ء)۔ ۵۔ شرح تسویہ: بزبان عربی۔ مولانا عبدالحلیم فرنگی محلیؒ بن مولانا امین اللہ انصاریؒ(والد بزرگوار مولانا عبدالحئی فرنگی محلیؒ) ۱۲۸۴ھ/۱۸۶۸ء۔ ۶۔شرح تسویہ: سید علی اکبر دہلوی فیض آبادیؒ۔ ۷۔ شاہ کلیم اللہ جہاں نابادی ۸۔ 
تصفیہ شرح تسویہ: شرح فارسی، مولانا حافظ شاہ علی انور قلندر کاکورویؒ( ۱۹۰۶ء)
Shaikh Muhibbullah Bahaisiyat Shaikh ul Kabeer
شیخ محب اللہ بحیثیتِ شیخ الکبیر


Share Post